اردوئے معلیٰ

خدا کا بندۂ محبوب ہے ختم الرسل ہے وہ

وہ مخدومِ دو عالم ہے مسلّم اس کی عظمت ہے

 

تقابل کیجئے کس سے مقابل ہو نہ جب کوئی

نرالی اس کی صورت ہے انوکھی اس کی سیرت ہے

 

ہے فطرت نرم خوئی کی ہے عادت صلح جوئی کی

برائے بندگانِ رب وہ ذاتِ پاک رحمت ہے

 

کھری، دو ٹوک، سادہ آپ کی ہے گفتگو ساری

خطابت میں سلاست ہے بلاغت ہے فصاحت ہے

 

علو ہمت ہے ہیبت ہے برائے دشمنانِ دیں

مصافِ حق و باطل میں نشانِ فتح و نصرت ہے

 

وہ مصروفِ جہادِ فی سبیل اللہ ہے دن میں

میانِ شب مصلّیٰ پر وہ مشغولِ عبادت ہے

 

برت کر اس نے دکھلائے قوانینِ خداوندی

دکھایا دہر کو جو طرزِ اسلامی حکومت ہے

 

کھلائے تھے جو گل بوٹے چمن زارِ نبوت میں

ابھی تک ان میں ویسی ہی دلآویزی ہے نکہت ہے

 

نظرؔ میں رب کے وہ بندہ بلا شک ہے پسندیدہ

جو اس کے دین کو اپنا کے پابندِ شریعت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات