خدا کا ذکر جس دل میں سمائے

خدا کا ذکر جس دل میں سمائے

رہیں فضلِ خدا کے اُس پہ سائے

کبھی روئے کبھی وہ مسکرائے

سدا حمدِ خدا کے گیت گائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا
تو رازق ہے میں اس سے باخبر ہوں
خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے
خطا کاروں کا تُو ستار بھی ہے
مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے
صدائے کن فکاں پرتو خدا کا
خدا توفیق دے حمد و ثناء کی
تو خبیر ہے تو علیم ہے

اشتہارات