اردوئے معلیٰ

خدا کا شکر بخشی جس نے توفیقِ ثنا خوانی

خدا کا شکر بخشی جس نے توفیقِ ثنا خوانی

کہاں ناچیز ورنہ میں کہاں توصیفِ سلطانی

 

زہے صورت ہے نورانی خوشا سیرت ہے قرآنی

اسے دیکھیں تو سکتہ ہو اسے دیکھیں تو حیرانی

 

تری توصیف میں نازل ہوئیں آیاتِ ربانی

کہ ممکن ہی نہ تھی انساں سے تیری مرتبہ دانی

 

تھی اپنی سرزمینِ دل میں ویرانی ہی ویرانی

ترا ابرِ کرم برسا اُگی تب فصلِ ایمانی

 

مرے ظلمت کدے میں تو نے کی جب جلوہ سامانی

مسائل حل ہوئے سارے سیاسی اور عمرانی

 

تمہیں حاصل ہوئی واللہ جب معراجِ جسمانی

کھلی تب آنکھ انساں کی تمہارے قدر پھر جانی

 

کہوں گا بات سچی میں کروں گا بات ایمانی

ہزاروں آئے پیغمبر مگر تم سب میں لاثانی

 

اسی روئے زمیں تک تھی سلیماں کی سلیمانی

قیامت تک جو ممتد ہے وہ ہے تیری ہی سلطانی

 

دھنی ہیں وہ مقدر کے انہیں سجتی ہے سلطانی

جنہیں سونپی گئی دربارِ عالی کی مگس رانی

 

ترے ہاتھوں ملی سوغات کیا کیا اے شہِ والا

نمازِ پنجگانہ حجّ و روزہ اور قربانی

 

سکوں چہرے پہ بس اس کے نظرؔ آتا ہے محشر میں

جلالِ حق سے ورنہ سب کا پِتّہ ہو گیا پانی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ