خدا کا نُور برسے ہر زماں میں ہر جہاں میں

خدا کا نُور برسے ہر زماں میں ہر جہاں میں

فضاؤں میں، خلاؤں میں، زمین و آسماں میں

دلاسہ دے وہی مغموم دل، قلبِ تپاں کو

گزر اُس کا ظفرؔ اکثر قلوبِ عاشقاں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہاں بھی تو وہاں بھی تو زمیں تیری فلک تیرا
میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
میرے ہر دم میں ترے دم سے بڑا دم خم ہے
خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے
فرشتہ تو نہیں انسان ہوں میں
کرم فرما خدا کی ذاتِ باری
مُنور ہر زماں نور خدا سے
خدایا دے مجھے اپنا پتہ، پہچان دے دے
خدا کا ذکر میری زندگی ہے