خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے

خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے

اُسی جانب رواں ہر کارواں ہے

 

یہی گھر مرکزِ اجماعِ اُمت

مسلمانوں کی وحدت کا نشاں ہے

 

یہی گھر منزلِ انسانیت ہے

یہی امن و سکوں کا ترجماں ہے

 

مقام اس کا فزوں تر سدرہ سے بھی

اگرچہ گھر یہ زیرِ آسماں ہے

 

طواف اس کا کریں جن و ملائک

یہی معمولِ انساں جاوداں ہے

 

سبھی کا پیرہن ہے اُجلا اُجلا

سفید احرام کا سیلِ رواں ہے

 

ظفرؔ کعبے کا کعبہ جانتے ہو

حبیبِ کبریاؐ کا آستاں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت کا جہاں آباد مولا
خداوندِ جہاں، آقا و مولا
خدا الطاف فرما، مہرباں ہے
ہے یہ حکمت خدائے عزوجل کی
کرو آدم کو سجدہ، جب فرشتوں کو یہ فرمایا خدا نے
خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے
خدائے پاک ربّ العالمیں ہے
خدا نے کی عطا ماں کی محبت
خدا کی یاد ہے میرا وظیفہ
محبت کی خدا نے ابتداء کی

اشتہارات