خدا کے سامنے سر کو جھکا دو

خدا کے سامنے سر کو جھکا دو

اذاں سلطانِ جابر کو سنا دو

 

رواں ہوں قافلے کعبہ کی جانب

صنم جو راستا روکیں گرا دو

 

منافق جو تمھارے درمیاں ہیں

نشاں تم اُن کو عبرت کا بنا دو

 

کوئی خائن ہو غاصب حکمراں ہو

اُسے تم جاہ و منصب سے ہٹا دو

 

ملے راہی جو کوئی بھولا بھٹکا

صراطِ مستقیم اُس کو دکھا دو

 

خدا سے ہر کسی کی خیر مانگو

دعا مانگو، کبھی نہ بددعا دو

 

ظفرؔ مانگے خدا سے گڑ گڑا کر

خدا را عشقِ محبوبِ خداؐ دو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرورِ قلب و جاں اللہ ہی اللہ
خدا کی قدرتیں ہر سُو عیاں ہیں
خدا کامل مرا، اکمل خدا ہے
کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا
مکان ہو کوئی یا لا مکان تیرا ہے
نبیؐ کا پیار مانگوں میں خُدا سے
میں درِ مصطفیؐ پہ جاتا ہوں
حبیبِ کبریاؐ ہیں، بالیقیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں
درِ سرکارؐ کیا عظمت نشاں ہے
وہ صداقت وہ دیانت آپؐ کی