اردوئے معلیٰ

Search

خدا کے فضل سے طیبہ نگر ہے پیشِ نظر

زہے نصیب کہ آقا کا در ہے پیشِ نظر

 

عطائے سرورِ کونین کے وسیلے سے

پھر ایک بار حرم کا سفر ہے پیشِ نظر

 

جو روشنیوں کا مرکز ہے اور منبع ہے

وہ سرزمینِ شہِ بحر و بر ہے پیشِ نظر

 

جہاں پہ روح کو بالیدگی عطا ہوگی

وہی دیارِ محبّت اثر ہے پیشِ نظر

 

خدا نے جس پہ نبوت کا اختتام کیا

ازل کے دن سے وہی تاجور ہے پیشِ نظر

 

جہاں پہ آکے سوالی نہیں گیا خالی

جو انتخاب ہے سب کا وہ گھر ہے پیشِ نظر

 

یہی تو دونوں جہانوں کی کامیابی ہے

رسول پاک کی نسبت اگر ہے پیشِ نظر

 

جہاں سے نور کی خیرات بٹ رہی ہے سدا

وہی حضور کا پیارا سا گھر ہے پیشِ نظر

 

جو اپنے خاکیؔ کا ملجا ہے اور ماویٰ ہے

قسم خدا کی وہ نوری بشر ہے پیشِ نظر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ