’’خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے‘‘

 

’’خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے‘‘

عیاں زمانے پہ آقا تمہاری شوکت ہے

جو شاخ لڑنے کو دو، تیغ سر بہ سر ہو جائے

’’جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہو جائے ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرم ہو یارب لحد میں اتنا، سوال ہو سامنے جو ان کے
بسایا میں نے دل میں مصطفیٰؐ ہے
یہ لُطف و کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے
ہے مجھے عشق حضورؐ آپ سے پیار آپؐ سے ہے
فکرِ سرکارؐ وجہِ راحت ہے
مجھے سرکارؐ سے وابستگی دے
ہے مخلوقات پہ احسان اُنؐ کا
آسماں آسماں قدم اُس کے
’’عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طُرفہ دھوم دھام‘‘
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘