اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

’’خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے‘‘

 

’’خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے‘‘

عیاں زمانے پہ آقا تمہاری شوکت ہے

جو شاخ لڑنے کو دو، تیغ سر بہ سر ہو جائے

’’جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہو جائے ‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شعور ِ ہست میں ڈھل کر ، شعار ِ آگہی بن کر
سوالی
شاہِ بطحا سے پیار مانگے ہے
رنگ تقدیر کے بدلتے ہیں
میں آپؐ کے در کا ہوں گداگر شہِ والا
میں اِک مسکیں گداگر اُنؐ کے در کا
محبت آپؐ کی ہے قلب و جاں میں
جلالِ کبریا ہر سُو عیاں ہے
’’عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طُرفہ دھوم دھام‘‘
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘