خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں

خدا کے نُور سے روشن جہاں ہیں

درخشندہ سبھی کون و مکاں ہیں

منور نُور سے ہی جسم و جاں ہیں

ظفرؔ عشاق کے قلبِ تپاں ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو حقِ ثنائے خدائے جہاں ہے
سننے والا ہے جو دعاؤں کا
وہ کیا ایک ہے ذاتِ پروردگار​
جلالِ کبریا پیشِ نظر ہے
بے شکلوں کو چہرے دینے والی ذات
مری مشکل خدایا کر دے آساں
جو چڑیاں چہچہاتی ہیں، خدا کی حمد ہے وہ بھی
خدا دل میں، خدا ہے جسم و جاں میں
خدا تک گر نہ ہو میری رسائی
خدا کا اعلیٰ ارفع مرتبہ ہے

اشتہارات