خدا کے کرم کا نظارہ درود

خدا کے کرم کا نظارہ درود

نبی کی عطا کا اشارہ درود

 

کئی بار پرکھا ہے میں نے اسے

بنا مشکلوں میں سہارا درود

 

اُنہی پر برستی ہے رحمت سدا

جنہیں جان و دل سے ہے پیارا درود

 

اسے لب پہ اپنے سجاؤمیاں!

وسیلہ ہے بخشش کا سارا درود

 

نکالے غموں کے تلاطم سے یہ

کہ ہے راحتوں کا کنارہ درود

 

ہے قرآن کا یہ بیاں مومنو!

پڑھو کہ ہے رحمت کا دھارا درود

 

یہ تیری بھی بخشش کا سامان ہے

رضاؔ وردِ لب رکھو پیارا درود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ان کی نگاہ لطف کا سایہ نظر میں ہے
رہ خیر الوری میں روشنی ہے
اے شہ انس و جاں جمال جمیل
ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہوتو ایسی ہو
تمنا ، آرزو حسرت مرے سینے میں رہتی ہے
کیا ذکر محمد نے تسکین دلائی ہے!
کارِ دشوار
دُعا کا آسمان
کون پانی کو اڑاتا ہے ہوا کے دوش پر​
امین فرش پہ پیغام لے کے آیا ہے