خدا گواہ جو حق کے امام ہوتے ہیں

خدا گواہ جو حق کے امام ہوتے ہیں

وہ مستحقِ درود و سلام ہوتے ہیں

 

بہ شوق ناز اُٹھاتا ہے صاحبِ معراج

خدا کے دین کے ایسے امام ہوتے ہیں

 

جو بن کے آتے ہیں زہرا کی آنکھ کے تارے

وہی زمانے میں ماہِ تمام ہوتے ہیں

 

جو کوئی کام نہیں کرتے نام کی خاطر

دلوں پہ ثبت فقط ان کے نام ہوتے ہیں

 

جو اپنے خون سے کرتے ہیں معرکوں میں وضو

پسِ حیات وہی لالہ فام ہوتے ہیں

 

امام رکھتا ہے اُن کے سروں کو زانو پر

بصدقِ دل جو علی کے غلام ہوتے ہیں

 

درود کیوں نہ ہو آل رسولِ حق پہ کلیم

غلام اُن کے علیہ السلام ہوتے ہیں​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ