خدا ہے روشنی جھونکا خدا ہے

خدا ہے روشنی جھونکا خدا ہے

نظر منظر ہے آئینہ خدا ہے

 

سُنے چیونٹی کے چلنے کی بھی آواز

فلک اونچا نہیں اونچا خدا ہے

 

بنائی جس نے یہ دنیا وہ دنیا

وہی میرا خدا تیرا خدا ہے

 

نہیں ہے نیند سے اس کا تعلق

ہمیشہ جاگنے والا خدا ہے

 

نہیں کچھ دسترس سے اس کی باہر

دل انسان کا ہے اور رہتا خدا ہے

 

وہی ماضی وہی ہے حال و فردا

زمانہ نام ہے جس کا خدا ہے

 

کسی نے مجھ سے جب پوچھا مظؔفر

دھڑک کر دل ہوا گویا, خدا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں تیرا فقیر ملنگ خدا
تو اعلیٰ ہے ارفع ہے کیا خوب ہے​
حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات
دردِ دل کر مجھے عطا یا رب
شعور و آگہی، فکر و نظر دے
خدا اعلیٰ و ارفع، برگزیدہ
خدا مجھ کو شعورِ زندگی دے
میں بے نام و نشاں سا اور تو عظمت نشاں مولا
خدا ہی بے گماں خالق ہے سب کا
خدا آفاق کی روحِ رواں ہے