اردوئے معلیٰ

Search

خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے

قرارِ پانے زمانے کے بیقرار چلے

 

وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے

نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے

 

اے تاجدارِ جہاں ، اے حبیبِ رب کریم

وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

 

سمجھ کے تاج سلیماں حضور کی نعلین

سروں پہ رکھ کے زمانے کے تاجدار چلے

 

ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نذر کرتے انہیں

بس ایک دل تھا جسے کر کے ہم نثار چلے

 

ریاض ان کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی

وگرنہ بازی تھے ہم زندگی کی ہار چلے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ