خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم

خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم

وہ مرا سدرہ ، وہ مرا طوبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 

اس کا جلال ہے بحر و بر میں ، اس کا جمال ہے کوہ و قمر میں

اس کی گرفت میں عالمِ اشیا صلی اللہ علیہ والہ وسلم

 

کتنے صحیفے میں نے کھنگالے ، نصف اندھیرے ، نصف اجالے

تو ہی حقیقت ، تو ہی صداقت ، باقی سب کچھ صرف ہیولا

 

تو نے دیا مفہوم نمو کو ، تو نے حیات کو معنی بخشے

تیرا وجود اثبات خدا کا ، تو جو نہ ہوتا ، کچھ بھی نہ ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کالی کملی والے
نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے
جانے کب اوج پہ قسمت کا ستارا ہوگا
حالِ دل کس کو سناوں آپ کے ہوتے ہوئے
ہر سانس ہجر شہ میں برچھی کی اک اَنی ہے
لکھوں مدح پاک میں آپ کی مری کیا مجال مرے نبی
اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں
مرا کیف نغمۂ دل، مرا ذوق شاعرانہ​
مجھے عنایت، جو زندگی ہے اسی کا محور مرا نبیؐ ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات