خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی

خلعتِ خاک پہ ٹانکا نہ ستارہ کوئی

میں فقط مَیں ہی رہا ، رُوپ نہ دھارا کوئی

 

میں محبت کے سوا تیر نہ مارا کوئی

پھر بھی دنیا ہو کہ دل ، جنگ نہ ہارا کوئی

 

توبہ ، یکسانیتِ عشق کا عالم، توبہ

جان کو آنے لگا ہے جان سے پیارا کوئی

 

عشق والو! نہ مجھے کارِ جہاں سے روکو

میں اِسی راکھ میں ڈھونڈوں گا شرارہ کوئی

 

ہم کناری کی مجھے ڈال کے عادت فارس

کر گیا کتنی سہولت سے کنارہ کوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ