خلقتِ شہر بھلے لاکھ دُھائی دیوے

خلقتِ شہر بھلے لاکھ دُھائی دیوے

قصرِ شاھی کو دکھائی نہ سُنائی دیوے

 

عشق وہ ساتویں حِس ھے کہ عطا ھو جس کو

رنگ سُن جاویں اُسے ، خوشبو دکھائی دیوے

 

ایک تہہ خانہ ھُوں مَیں اور مرا دروازہ ھے تُو

جُز ترے کون مجھے مجھ میں رسائی دیوے

 

ھم کسی اور کے ھاتھوں سے نہ ھوں گے گھائل

زخم دیوے تو وھی دستِ حنائی دیوے

 

تُو اگر جھانکے تو مجھ اندھے کنویں میں شاید

کوئی لَو اُبھرے ، کوئی نقش سجھائی دیوے

 

پتّیاں ھیں ، یہ سلاخیں تو نہیں ھیں فارس

پھول سے کہہ دو کہ خوشبو کو رھائی دیوے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں
مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری
نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا
جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے
اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا
میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں