خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم

 

خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم

مرسل داور خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم

 

نورمجسم، نیّر اعظم، سرور عالم، مونسِ آدم

نوح کے ہمدم، خضر کے رہبر، صلی اللہ علیہ وسلم

 

فخر جہاں ہیں، عرش مکاں ہیں، شاہ شہاں ہیں، سیف زباں ہیں

سب پہ عیاں ہیں آپ کے جوہر، صلی اللہ علیہ وسلم

 

قبلہء عالم، کعبہ اعظم، سب سے مقدم راز کے محرم

جان مجسم، روح مصور، صلی اللہ علیہ وسلم

 

دولتِ دنیا خاک برابر، ہاتھ کے خالی دل کے تونگر

مالک کشور تخت نہ افسر، صلی اللہ علیہ وسلم

 

رہبر موسیٰ، ہادیء عیسٰی ، تارک دنیا، مالک عقبٰی

ہاتھ کا تکیہ، خاک کا بستر، صلی اللہ علیہ وسلم

 

سروخراماں، چہرہ گلستاں، جبہ تاباں، مہر درخشاں

سنبل پیچاں، زلف معنبر ، صلی اللہ علیہ وسلم

 

مہر سے مملو ریشہ ریشہ، نعت امیر اپنا ہے پیشہ

ورد ہمیشہ رہتا ہے لب پر ، صلی اللہ علیہ وسلم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ ہو گر اُس کا ثنا گر ، نعت کہوں میں کیسے
لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں
منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں
شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی
یاد
اک عالمگیر نظام
دل میں رہتے ہیں سدا میرے نبی​
ہیں سر پہ مرے احمدؐ مشکل کشا کے ہاتھ
درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو
دشمن ہے گلے کا ہار آقا