اردوئے معلیٰ

Search

خلوتِ جاں میں بھی عزیزؔ ہم تو اک انجمن ہوئے

شہرِ نبی کے ہجر میں دل سے عجب سخن ہوئے

 

داغِ قُروحِ ضبطِ شوق یاد میں جب اُبھر گئے

کِھل کے گلاب کی طرح مدحِ نبی کا فن ہوئے

 

شاہِ زمن کی انجمن دھیان میں جب بھی آگئی

پھیل کے اشکِ خونِ دل پھول بنے، چمن ہوئے

 

میرے حضور ! آج پھر دل کی جراحتیں بڑھیں

اپنی ہی صف کے لوگ جب دین کے راہزن ہوئے

 

اُسوۂ ہادیء سُبُلْ جن کے لیے مثال تھا

سیرتِ بولہب میں اب، لوگ وہی مگن ہوئے

 

دین سے جس کو آج کل تھوڑا بہت بھی پیار ہے

اُس کا نصیب یا نبی ! رنج ہوئے، محن ہوئے

 

خواب نگر کا حال میں کاش کبھی سنا سکوں!

میں بھی کہوں نبی مرے خواب میںضَو فگن ہوئے!

 

جس کو ملا تھا منصبِ رہبریٔ اُمم کبھی٭

کیوں اسی قوم کے عزیزؔ ننگِ جہاں چلن ہوئے؟

 

٭کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ
(آیت نمبر ۱۱۰،اٰل عمران)(ہو تم بہترین امت جو ظاہر کی گئی ہے لوگوں کی ہدایت
و بھلائی کے لیے، تم حکم دیتے ہو نیکی کا اور روکتے ہو برائی سے اور ایمان
رکھتے ہو اللہ پر۔ ضیاء القرآن۔ پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ)
ہفتہ: ۳۰ ؍ ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ مطابق ۲۹؍ نومبر ۲۰۰۸ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ