اردوئے معلیٰ

Search

خلوت میں کبھی یاد جو آئی ترے در کی

سوچوں میں ہی تصویر بنائی ترے در کی

 

شاہوں کے وہ صد ناز اٹھاتا بھی تو کیسے

تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی

 

آتے ہیں سلامی کو شب و روز فرشتے

خلّاق نے یہ شان بنائی ترے درکی

 

سرکار! بناؤں گا اسے آنکھ کا سرمہ

اس شوق میں کچھ خاک اٹھائی ترے در کی

 

جب جب بھی ہوا ذکر مدینے کی گلی کا

ہر بار طلب عود کے آئی ترے در کی

 

طیبہ کا مسافر ہے مقدر کا سکندر

جس کو ہے کشش کھینچ کے لائی ترے در کی

 

ہم پر یہ جلیل اُس کا ہے احسان کہ جس نے

بخشش کو ہمیں راہ دکھائی ترے در کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ