خواب، خواہش، طلب، جستجُو نعت ہے

خواب، خواہش، طلب، جستجُو نعت ہے

فکر و فن، زندگی، شوق، خُو نعت ہے

 

دست بستہ مؤدب ہے میرا ہنر

طاقِ ادراک میں مشکبُو نعت ہے

 

ہے یہی وجہِ تسکینِ قلب و نظر

آشتی، روشنی، رنگ و بُو نعت ہے

 

کوئی صنفِ سخن راس آئے ہی کیوں

ہر سخن گستری، گُفتگُو نعت ہے

 

اوجِ حرفِ سخن ہے رہینِ ثنا

نطق اور صوت کی آبرُو نعت ہے

 

آنکھ سے قلب تک خواہشِ دید ہے

آنکھ سے قلب تک کا وضُو نعت ہے

 

دل کو سیراب کرتا ہے ذوقِ ثنا

دل میں بہتی ہوئی آب جُو نعت ہے

 

جس گھڑی میرے لب پر مصارع نہ ہوں

وردِ صلِ علیٰ ہُو بہُو نعت ہے

 

دو کریموں کا مجھ پر یہ احسان ہے

میری ہر سانس کی آرزُو نعت ہے

 

خاورِ نعت ہے ضو فشاں اوج پر

کو بہ کو روشنی، سُو بہ سُو نعت ہے

 

اُس کا لہجہ ہے شیرینیٔ انگبیں

وہ جو کہتا ہے اشفاق، تُو، نعت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درجاتِ مصطفےٰ میں یوں تفریق کی گئی
یکتَا بہ فضِیلت ہیں ہر اَبرار سے پہلے
’’منظور تھی جو شکل تجلی کو نور کی‘‘
کیسے رکھتا میں آنکھوں کا نم تھام کر
نعت لکھنے کا جب بھی ارادہ کیا
آتا ہے یاد شاہِ مدینہ کا در مجھے
رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی
جتنا علم و شعور ملتا ہے
اسی انسان سے مجھے بوئے وفا آتی ہے
اُمیؐ نے بہرہ مند کیا عقل و خرد سے

اشتہارات