خواب کی دہلیز پر پلکوں کا نم رہ جائے گا

خواب کی دہلیز پر پلکوں کا نم رہ جائے گا

دید کی تعبیر نا ملنے کا غم رہ جائے گا

 

دولتِ دیدار مجھ کو بھی عطا فرمائیے

میری آنکھوں کی بصارت کا بھرم رہ جائے گا

 

ہم بدن اپنا مدینے سے اٹھا لے جائیں گے

دل ہمارا آپ کی چوکھٹ پہ خم رہ جائے گا

 

چھوڑ جائیں گی ہمیں اعمال کی خوش فہمیاں

بر سرِ میزان بس ان کا کرم رہ جائے گا

 

محوَ ہو جائیں گی آخر کار یہ بے تابیاں

لوحِ دل پر آپ کا نقشِ قدم رہ جائے گا

 

آئیں گے وہ موت کی سب تلخیوں کو روندنے

آخری جب زندگی میں ایک دم رہ جائے گا

 

دیکھنا اشفاق مٹ جائیں گے سب رنج و الم

غم حسین ابنِ علی کا بیش و کم رہ جائے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کائناتِ نعت ،محدودات میں آتی نہیں
منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا
نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں

اشتہارات