خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں

خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں

شعر کی نبض ہوں ، رواں ہوں میں

 

ہر طرف تُو ہی تُو ہے ، گویا کہ

میں کہیں بھی نہیں ، کہاں ہوں میں

 

ایک لمحہ بچا ہوں ، سو وہ بھی

ہر حوالے سے رائیگاں ہوں میں

 

تھک گئے ہو تو داستاں گو ہوں

سُن رہے ہو تو داستاں ہوں میں

 

اور متروک خواب بھی ہیں بہت

میں اکیلا نہیں ، جہاں ہوں میں

 

تو مری کھوج سے تھکا ، اور میں

چیختا رہ گیا ، یہاں ہوں میں

 

رُونما ہو رہا ہے تُو جیسے

اور چھٹتا ہوا دھواں ہوں میں

 

آسماں ہے زمیں پہ گرنے کو

اور دونوں کے درمیاں ہوں میں

 

چل رہا تھا گریز پاء خود سے

تھک گیا ہوں کہ بےکراں ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ بھی اب مجھ کو بہ اندازِ زمانہ مانگے
اِس سے پہلے کہ کوئی اِن کو چُرا لے، گِن لو
کسی بھی طَور بہلتا نہیں جنُوں تیرا
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں
مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری
نیا سلسلہ آئے دن امتحاں کا
جو ایک باس گھنے جنگلوں میں آتی ہے
اک دور میں میں عشق کا منکر ضرور تھا
میں اپنی ذات سے ہجرت کا سانحہ سہہ لوں