اردوئے معلیٰ

خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں

خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں

شعر کی نبض ہوں ، رواں ہوں میں

 

ہر طرف تُو ہی تُو ہے ، گویا کہ

میں کہیں بھی نہیں ، کہاں ہوں میں

 

ایک لمحہ بچا ہوں ، سو وہ بھی

ہر حوالے سے رائیگاں ہوں میں

 

تھک گئے ہو تو داستاں گو ہوں

سُن رہے ہو تو داستاں ہوں میں

 

اور متروک خواب بھی ہیں بہت

میں اکیلا نہیں ، جہاں ہوں میں

 

تو مری کھوج سے تھکا ، اور میں

چیختا رہ گیا ، یہاں ہوں میں

 

رُونما ہو رہا ہے تُو جیسے

اور چھٹتا ہوا دھواں ہوں میں

 

آسماں ہے زمیں پہ گرنے کو

اور دونوں کے درمیاں ہوں میں

 

چل رہا تھا گریز پاء خود سے

تھک گیا ہوں کہ بےکراں ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ