خود سے یہ اقرار کی باتیں کریں

خود سے یہ اقرار کی باتیں کریں

جب کریں سرکار کی باتیں کریں

 

جن سے چھنتی ہیں شعائیں نور کی

ان در و دیوار کی باتیں کریں

 

جذبۂ صادق سموئیں لفظ میں

بعد میں اظہار کی باتیں کریں

 

ذکر ہو داناے کل کی فکر کا

واقف اسرار کی باتیں کریں

 

جس کو ہم معراج میں بھی یاد تھے

اپنے اس غم خوار کی باتیں کریں

 

ذکر چھیڑیں مصدر انوار کا

روضۂ سرکار کی باتیں کریں

 

ان کا قطرہ بھی کفیل اک بحر ہے

کیا کم و بسیار کی باتیں کریں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہے ورد یہی ہر اک لمحہ سرکار مدینے بلوائیں
اے شاہِ امم، سیّدِ ابرار یا نبیؐ
نام لیتا ہوں جو آقا کا دعا سے پہلے
شعبِ احساس میں ہے نور فِشاں گنبدِ سبز
مبتدا کی دید کرتے ، منتہیٰ کو دیکھتے
احسان ہے خدائے علیم و خبیر کا
نہ صرف یہ کہ پیمبر بنا کے بھیجے گئے
میں رہوں نغمہ طرازِ شہِ دیں حینِ حیات
غنچۂ لب مسکرائے مصطفیٰ کے نام سے
کم ہے محیطِ فکر اور تنگ ہے ظرفِ آگہی

اشتہارات