اردوئے معلیٰ

خود کو یونہی تو نہیں محوِ سفر رکھا ہوا

سبز گنبد میں نے ہے پیشِ نظر رکھا ہوا

 

بس یہی اک سلسلہ ہے معتبر رکھا ہوا

دامنِ خیر الوریٰ ہے تھام کر رکھا ہوا

 

اس لیے تازہ دم رہتا ہوں ہر دم دوستو!

ذکر ان کا لب پہ ہے شام و سحر رکھا ہوا

 

منزلیں خود راستہ میرا بھلا دیکھیں نہ کیوں؟

ان کی مدحت کو ہے جب رختِ سفر رکھا ہوا

 

بخشوانی ہوں خطائیں تو چلے جایا کرو

عاصیوں کے واسطے ہے رب نے در رکھا ہوا

 

دور کر دیتی ہے سارے مرض، ملتی ہے شفا

خاکِ طیبہ میں اثر ہے اس قدر رکھا ہوا

 

روح تن سے اس گھڑی اے کاش! ہو جائے جدا

آپ کی دہلیز پر ہو جب یہ سر رکھا ہوا

 

دو جہاں میں ہیں رسولِ ہاشمی حامی ترے

حوصلہ رکھ، دل میں آصف کیوں ہے ڈر رکھا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات