خود کو یونہی تو نہیں محوِ سفر رکھا ہوا

خود کو یونہی تو نہیں محوِ سفر رکھا ہوا

سبز گنبد میں نے ہے پیشِ نظر رکھا ہوا

 

بس یہی اک سلسلہ ہے معتبر رکھا ہوا

دامنِ خیر الوریٰ ہے تھام کر رکھا ہوا

 

اس لیے تازہ دم رہتا ہوں ہر دم دوستو!

ذکر ان کا لب پہ ہے شام و سحر رکھا ہوا

 

منزلیں خود راستہ میرا بھلا دیکھیں نہ کیوں؟

ان کی مدحت کو ہے جب رختِ سفر رکھا ہوا

 

بخشوانی ہوں خطائیں تو چلے جایا کرو

عاصیوں کے واسطے ہے رب نے در رکھا ہوا

 

دور کر دیتی ہے سارے مرض، ملتی ہے شفا

خاکِ طیبہ میں اثر ہے اس قدر رکھا ہوا

 

روح تن سے اس گھڑی اے کاش! ہو جائے جدا

آپ کی دہلیز پر ہو جب یہ سر رکھا ہوا

 

دو جہاں میں ہیں رسولِ ہاشمی حامی ترے

حوصلہ رکھ، دل میں آصف کیوں ہے ڈر رکھا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات