اردوئے معلیٰ

خوشا ہر گوشۂ سیرت منّور ہے محمد کا

خوشا ہر گوشۂ سیرت منّور ہے محمد کا

مثالِ آئینہ شفاف پیکر ہے محمد کا

 

صبا مس ہوکے جب گزرے اسے مستی میں آ جائے

بسا خوشبو میں ایسا جسمِ اطہر ہے محمد کا

 

اسی سے ماہ و انجم روشنی کی بھیک لیتے ہیں

کچھ اِس انداز سے چہرہ منور ہے محمد کا

 

لکھیں اس کے سوا تعریف کیا ہم اس کی عظمت کی

ریاضِ خلد دنیا میں فقط گھر ہے محمد کا

 

تصدق دولتِ کونین ہے جس کے تقدس پر

جہانِ فقر و فاقہ میں وہ بستر ہے محمد کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ