اردوئے معلیٰ

Search

خوشبوئے گلستان نہ شبنم ہے معتبر

جس میں حضور ہیں وہی عالم ہے معتبر

 

ہاں ہاں یقین شرط ہے تاثیر کیلئے

وردِ درودِ پاک سے ہر دم ہے معتبر

 

جس لطف میں گزرتے ہیں اب روز و شب مرے

لگتا ہے جیسے ہجر کا موسم ہے معتبر

 

طیبہ کا غم ملے تو بتانا ذرا مجھے

خوشیاں ہیں معتبر یا مرا غم ہے معتبر

 

اُن کا قدم خیال میں ہی چوم لے کبھی

جس نے کہا نزاکتِ ریشم ہے معتبر

 

کیوں جائیں بادشاہوں کے در پر ترے غلام

تیرا کرم ہمارے لئے کم ہے معتبر ؟

 

تعریفِ غیر کچھ نہیں بس شکلِ شعر ہے

ہو نعت تو خیالِ منظّم ہے معتبر

 

جب سے ملی ہے نعمتِ پُرفیض نعت کی

اس وقت سے تبسمِ منعَم ہے معتبر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ