خوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا

خوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا

تربت یہ گل کی، خار کا سرہنگ رہ گیا

 

ہو لب پہ رام رام، بغل میں چھری رہے

جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا

 

ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر

انساں خلا میں پہنچا تو پاسنگ رہ گیا

 

گلہائے رنگ رنگ روش در روش ملے

دامن ہی آرزو کا مری تنگ رہ گیا

 

میں بھی بدل گیا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ

آئینہ آج دیکھا تو خود ، دنگ رہ گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات