اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

خوشبو گلاب میں خوش، پتّا شجر میں خوش ہے

 

خوشبو گلاب میں خوش ، پتّا شجر میں خوش ہے

جو بھی ہے اپنے اپنے دیوار و در میں خوش ہے

 

پیروں پہ جو کھڑا ہے ، یہ ہے زمین اُس کی

ہے آسمان اُس کا ، جو بال و پر میں خوش ہے

 

یہ ہجر کون جانے ، یہ بات کون سمجھے

میں اپنے گھر میں خوش ہوں وہ اپنے گھر میں خوش ہے

 

تُو ہی بتا محبت ، یہ بھی کوئی خوشی ہے

یہ دل مِرا اکیلا ، اس شہر بھر میں خوش ہے

 

جتنے بھی ہیں مسافر سب کے اصول الگ ہیں

کوئی قیام میں اور کوئی سفر میں خوش ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق
تہہ قوسین سوتے ہیں سر محراب سوتے ہیں
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر
مِری شہ رگ ہے، کوئی عام سی ڈوری نہیں ہے
اب کچھ بساطِ دستِ جنوں میں نہیں رہا
تیری آغوش کی جنت سے نکالے ہوئے ہم
وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو
شق ہوئی مصرِ تمنا کی زمیں، دفن ہوئے
مآلِ سوزِ عشقِ نہاں صرف راکھ ہے