اردوئے معلیٰ

خوش ہوں کہ پسِ مرگ یہ پہچان رہے گی

ہر مصرعِ مدحت میں مری جان رہے گی

 

آدابِ محبت نہ فراموش کروں گا

مستی بھی مری صاحبِ عرفان رہے گی

 

یہ جسم کسی خاک میں پیوند ہو آقا

یہ روح ترے شیر میں مہمان رہے گی

 

صد شکر! ترا عشق سلامت ہے دلوں میں

جب تک یہ رہا ، قوم مسلمان رہے گی

 

دربار میں آؤں ، میں تجھے نعت سناؤں

دل میں یہ تمنا ، مرے سُلطان رہے گی

 

پُر حال رہوں گا تری مدحت میں ہمیشہ

ہر منزلِ ہستی مجھے آسان رہے گی

 

سرکار کی رحمت سے یہ توقع ہے کہ اخترؔ

اک نعت لبوں پر سرِ میزان رہے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات