اردوئے معلیٰ

Search

خونِ جگر کے ساتھ جو حسنِ نظر ملے

ذوقِ طبع کو مدح گری کا ہنر ملے

 

میں نے کہا حضور کہوں معتبر سی نعت

پھر لفظ جس قدر بھی ملے معتبر ملے

 

اس دل کو دیکھے وادیِ فاران رشک سے

جس میں حضور آپ کی چاہت کا گھر ملے

 

اس کی نظر میں تختِ سکندر بھی کچھ نہیں

جس کو نبی کی مدح سرائی کا زر ملے

 

بیشک فلک مزاج تھی دھرتی حجاز کی

’’اس سر زمیں کے ذروں میں شمس و قمر ملے’‘​

 

ان کی زباں میں ہم سے کرے گفتگو خدا

ان کے بیاں میں ہم کو خدا کی خبر ملے

 

فرشِ زمیں پہ اُن کی حکومت ہے بالیقیں

جن کے نقوشِ پا کے نشاں عرش پر ملے

 

مدح گری کے واسطے تھوڑا سا چل کے دیکھ

اہلِ سخن کو اُن کی عطا ڈھونڈ کر ملے

 

اہل سخن کو بہر سکوں گھر تو چاہئے

اچھا ہے گھر کے واسطے مدحت نگر ملے

 

روشن زمیں ہو ذوق کی فیضانِ نعت سے

اشعار میں تابانیِ خونِ جگر ملے

 

مدح سرائی کرتا چلوں کارواں کے ساتھ

شہرِ نبی کا مجھ کو سہانا سفر ملے

 

اُن کی عطا پہ نازاں سوالی ہے کوثریؔ

پہلے خیال خوب ہے اب خوب تر ملے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ