خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ

خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ

خُدائے نہاں و عیاں، اللہ اللہ

 

کیے جس نے تخلیق سارے زمانے

وہ صوت و صدا کُن فکاں، اللہ اللہ

 

خُدا کی خُدائی کے عکاس و مظہر

زمیں، آسماں، کہکشاں، اللہ اللہ

 

یہ دشت و جبل، بحر و بر، چاند تارے

پکاریں سبھی اِنس و جاں، اللہ اللہ

 

ہر اک طائرِ خوشنوا، غنچہ و گُل

پڑھے ہر چمن، گُلستاں، اللہ اللہ

 

ہے اسمِ خُدا قلب و جاں میں سمایا

مسلسل ہے وردِ زباں، اللہ اللہ

 

ظفرؔ! آستانِ حبیبِ خُداؐ ہے

محبت نشاں، ضو فشاں، اللہ اللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مسافر ہوں رہنما تُو ہے
تجھ کو روا تکبّر ، تجھ کو ہی کبریائی
نگاہ عشق نے در آگہی کا وا دیکھا
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات