اردوئے معلیٰ

Search

خیالِ نعت تھا یا الفتِ سرکار کی بارش

دلِ تاریک روشن کر گئی انوار کی بارش

 

دلوں کی کھیتیاں سرسبز ہو کر لہلہا اُٹھیں

اثر کرتی گئی جن پر تری گفتار کی بارش

 

جمی رہتی ہیں جن میں محفلیں ذکرِ پیغمبر کی

برستی ان گھروں پر ہے سدا مہکار کی بارش

 

عقیدے کی زمیں بنجر نہیں آباد دیکھیں گے

تسلسل سے اگر ہوتی رہی اذکار کی بارش

 

یہ فیضانِ نظر تھا آپ کا اے رحمتِ عالم

مہاجر پر ہوئی جو آپ کے انصار کی بارش

 

وہی دربار خوشبوئے ہدایت سے مہکتے ہیں

ہے جن پر آپ کے خوشبو بھرے دربار کی بارش

 

ہدایت کا جہاں دستار در دستار سجتا ہے

ہر اک دستار پر ہے آپ کی دستار کی بارش

 

عقیدہ نطقِ مومن سے گھٹا بن کے برستا ہے

کہیں انکار کی بارش کہیں اقرار کی بارش

 

کریں ہمت عقیدوں کو بچا لیں خشک سالی سے

چلو مانگیں ولائے احمد مختار کی بارش

 

بہ اذنِ ربِ اکبر ہے مرے آقا کی جانب سے

سر محشر شفاعت کے دُرِ شاہوار کی بارش

 

اے طالب کوثریؔ سینے میں خواہش سانس لیتی ہے

کہ ہو قلب و نظر پر آپ کے دیدار کی بارش

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ