خیال افروز ہے نام محمد

خیال افروز ہے نام محمد

بہت افضل ہے پیغام محمد

 

رہے گا تا ابد سرشار و بے خود

ملا جس رند کو جام محمد

 

دل و جاں کیوں نہ ہوں مرہون منت

دل و جاں پر ہے اکرام محمد

 

ہوا عرفان ہست و بود اس کو

سنا جس نے پیغام محمد

 

فراز زندگی کا ہے یہ زینا

جسے کہتے ہیں الہام محمد

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر میں سوزِ دل تو ہے خیرِ انام کے لیے
امامِ رسولاں، متاعِ دو عالم
شہرِ طیبہ میں میسر روح و دل کو تھا سکوں
نہ رسوخ و علم نہ آگہی نہ سخن کی تاب و مجال ہی
یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے
ان کے لئے میں زندہ رہوں گا، ان کے لئے مر جاؤں گا
دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمدؐ
غلاموں پر محمدؐ کی عنایت ہوتی رہتی ہے
اُن کی جب بات چلی خوب چلی کیا کہنے!
تُو رسُولِ حق، تُو قبولِ حق، ترا تذکرہ ہے فلک فلک