اردوئے معلیٰ

خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

نظر ہے شاہِ دوعالم کے آستاں کی طرف

 

تمام نبضِ دو عالم ٹھہر گئی اس دم

چلے جو سیّدِ کونین لامکاں کی طرف

 

یہ دھوپ حشر کی جھلسائے گی مجھے کیسے

ٹھکانہ میرا ہے جب اُن کے آستاں کی طرف

 

نہ جانے کس گھڑی آ جائے گا پیامِ اجل

اے زیست لے کے تُو چل شاہِ این و آں کی طرف

 

بنا کے رحمت و عظمت کا اک حسیں پیکر

خدا نے بھیجا ہے آقا کو دو جہاں کی طرف

 

ہے سود مند بہت ذکرِ سیدِ عالم

کوئی بھی راستہ اس کا نہیں زیاں کی طرف

 

نواز میرا مقدر سنور ہی جائے گا

نظر ہو اُن کی اگر مجھ سے خستہ جاں کی طرف

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات