اردوئے معلیٰ

خیر اب تو ہے ہمارا رابطہ ٹوٹا ہوا

تھا بھی جب تو یہ دلِ بے زار تھا ٹوٹا ہوا

 

جانے کس منزل کی جانب جا رہا ہوں آج کل

چل رہا ہوں مضمحل ، افتادہ پا ، ٹوٹا ہوا

 

موڑ آ سکتا ہے پھر اس کے بھی خیالوں میں وہی

جڑ بھی سکتا ہے ہمارا سلسلہ ٹوٹا ہوا

 

ایک بت کے وار سے میں تو مکمل ہو گیا

میرے اندر جی اٹھا میں بے صدا ٹوٹا ہوا

 

چند لمحوں کے لیے بیمار کو نیند آئی ہے

اور سرہانے رو رہا ہے رتجگا توٹا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات