اردوئے معلیٰ

خیمۂ دل میں کھِلے، قریۂ جاں میں چمکے

آپ کا نام نہاں اور عیاں میں چمکے

 

مَیں اُسے اپنے ہی اک خواب گھروندے میں رکھوں

یہ الگ بات کہ وہ پورے جہاں میں چمکے

 

سب اُسی نور سے لیتے ہیں کرن کی خیرات

وہ بشر زاد تو ہر نور نشاں میں چمکے

 

ُپورے احساس میں جَل اُٹھیں عقیدت کے چراغ

کاش وہ میرے کسی شعر و بیاں میں چمکے

 

دل دریچے سے اُسے جھانکنے لگ جائے یقیں

وہ ذرا سا بھی اگر صحنِ گماں میں چمکے

 

اُس کی مرضی پہ ہے موقوف جہانِ طلعت

اُس کی مرضی ہے وہ جس دور، زماں میں چمکے

 

بوئے نایاب مری زیست میں گُھل مِل جائے

وہ گلابوں کا امیں میری خزاں میں چمکے

 

کیا عجب نام ہے مقصودؔ وہ نامِ احمد

دل میں وہ رنگ بھرے اور زباں میں چمکے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات