دائم کرم کا مہکا ہوا در کھلا ملا

دائم کرم کا مہکا ہوا در کھلا ملا

ہر کوئی ہر سو اس کے ہی در کا گدا ملا

 

ہر آدمی کو اس کے کرم کی ردا ملی

ہر آدمی کی روح کو اک آسرا ملا

 

مدحِ رسول روح کی اور دل کی ہے صدا

ہر گُل ولا کا گُل کدے کو ہے کھلا ملا

 

حاصل ہوا ہے راہِ عمل کو وریٰ کمال

اور ہر لساں کے ورد کو صلِ علیٰ ملا

 

سرکار کا ہوا ہے کرم واسطے مرے

اس کی گداگری کا ہے اعلیٰ صلا ملا

 

اس کی ادائے رحم و کرم سے دمِ معاد

سائل سے عام لوگوں کو اک حوصلہ ملا

 

عالم کے واسطے ہے وہ ارحم کمال کا

سائل کو رحم اس کی صدا سے سوا ملا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ