داستانِ پُراسرار: گوروں کے دیس کے مُشاعرے

صاحبو ! انور مقصُود کے تحریر کردہ مزاحیہ ڈرامہ "ھاف پلیٹ” میں مُعین اختر نے شاعر کا لافانی کردار ادا کیا، خالدہ ریاست شاعر کی بیگم بنیں اور جمشید انصاری نے مُنحنی شاعر کے مُنحنی شاعر فرزند کا کردار نبھایا۔ ایک منظر میں مُعین اپنی ضخیم بیاض پر جُھکے فکرِ سخن میں محو ھیں کہ جمشید انصاری داخل ھوتے ھیں۔ آگے کا منظر کچھ یُوں ھے:
جمشید: "ابا ! اللہ کے کرم سے چار مشاعرے پکڑے۔ (منہ بسور کر) مگر دو نکل لیے”
مُعین: (عینک کی اوٹ سے دھاڑتے ھوئے) "نکل لیے ؟؟؟ابے کم بخت ! مُشاعرے تھے یا کھٹمل ؟”
تو صاحبو ! اب کے ھمارے ساتھ بھی یہی ھاتھ ھُوا۔ انگلستان (اور سکاٹ لینڈ) کے چھ شاندار مشاعروں میں بصد محبت و خلوص مدعو تھے جس میں بریڈ فورڈ، لندن، مانچسٹر، شیفیلڈ، برمنگھم اور گلاسکو شامل تھے مگر بھلا ھو کارِ سرکار کا کہ رُخصت ھی مختصر ملی۔ سو لندن اور برمنگھم کے مشاعرے "نکل لیے”۔ لندن میں سُہیل ضرار بھائی کی میزبانی سے لُطف اندوز نہ ھوپائے اور چھٹیوں کی کمی کےباعث لندن کے مشاعرے مس کرنا پڑے۔ خیر یار زندہ صحبت باقی۔ ایک در بند ھو تو سو کُھلتے ھیں، وہ بھی دستک کے بغیر۔ سو جہاں جہاں پڑھنے کا اتفاق ھُوا، مولائے سخن کے کرم سے دل آویز محبتوں، دلُربا چاھتوں اور اگلے برس یورپ کی درجن بھر مشاعراتی دعوتوں سے نوازا گیا۔ چاھے عزیزی اشتیاق میر صاحب کا اشتیاق بھرا بریڈ فورڈ مشاعرہ ھو یا راحت زاھد کا راحت افزا گلاسکو مُشاعرہ، مخدوم امجد شاہ صاحب کا کیا گیا لائیو ٹیلی ویژن مانچسٹر مشاعرہ ھو یا کوثر خان صاحبہ کا ایف ایم ریڈیو انٹرویو، محبتیں بے مثال اور داد و تحسین باکمال تھی۔
صاحبو ! سفر وسیلۂ ظفر ھوتا ھے۔ ھمارا ذاتی تجربہ ھے کہ دُنیا کا کوئی بھی دیس ھو، مُسافر کو بہتیرے مُسافر نواز اور شاعر کو ڈھیروں سامعین بہم آ ھی جاتے ھیں؛ بس سخن میں سچائی، گہرائی اور گیرائی شرط ھے۔ عالمِ سخن میں محبت کے حصول کے اصول یہی ھیں۔ پھر دیکھیے: طرح طرح کے طرحدار لوگ نظر نواز بھی ھوتے ھیں اور دلنواز بھی ! اور اس بات کے گواہ تو شاعر کے اشعار بھی ھیں کہ شاعر کم نظری یا بے ذوقی کی شکار نہیں !
"یارکشائر ادبی فورم” کے پلیٹ فارم سے اشتیاق میر صاحب کی آتشِ شوق اور سعئ پیہم کے سبب پاکستانی قونصلیٹ، بریڈ فورڈ میں ایک شاندار مشاعرے، رنگارنگ محفلِ موسیقی اور یومِ اقبال کا شایانِ شان اھتمام کیا گیا ۔ اس محفل میں پاکستانی قونصلر جنرل اور تمام شرکائے کرام کی جانب سے نچھاور کی جانے والی پذیرائی کی یادیں ایک عمر تک ھمارے حافظے پر نقش رھیں گی۔ اس شام کی ایک خاص الخاص بات انگلستان کی تاریخ کا پہلا "یُوتھ مشاعرہ” تھا جس میں ھمارے عزیز دوستوں عُمر فاروق اور حمزہ عمران کے ساتھ ساتھ گلناز کوثر کی بیٹی اقرا کی شاعرانہ شرکت نے ھمیں ششدر کردیا۔ یہ اقرا وھی ھیں جو ھمارے انگلستان کے پہلے دورے کے دوران ایک مُنی سی گڑیا جتنی تھیں۔
اب کے ھمارے ھمسفر کراچی سے ڈاکٹر آفتاب مُضطر تھے جو علمِ عروض میں پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ باکمال شاعر ھیں۔ سجاد علی کی شہرہ آفاق غزل "ھر ظلم ترا یاد ھے، بُھولا تو نہیں ھُوں ۔۔۔ اے وعدہ فراموش ! مَیں تُجھ سا تو نہیں ھوں” کے خالق یہی ھیں۔ دھیمے مزاج کے باکمال و ھُنرمند آدمی ھیں مگر نہایت عاجزانہ طبیعت کے منکسر المزاج شخص ھیں۔ ان کے ساتھ گذارے ھوئے دن بہت یادگار ھیں۔ ان سے عروض کے حوالے سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور یہ بات بھی قطعی غلط ثابت ھوئی کہ عروض دان اچھا شاعر نہیں ھوسکتا۔
ھمارے میزبان اشتیاق میر صاحب بے بہا باغ و بہار اور بھرپور بُردبار شخصیت ھیں۔ ان سے ملاقات کا اشتیاق ھمیں کشاں کشاں انگلستان لے اُڑا۔ "سیّدی” کہہ کر نہایت نستعلیق انداز میں مُخاطب کرتے ھیں۔ اس قدر عزت دیتے ھیں کہ ھم جیسوں کو بھی خُود پر مُعزز ھونے کا گُمان گذرنے لگتا ھے۔ بریڈ فورڈ کے عالی شان مُشاعرے کی شام اس قدر من موھنا پیرھن زیبِ تن کیے تشریف لائے کہ ھمیں ان پر لکھنوی بانکا ھونے کا گمان گذرا۔ بہترین شاعر ھیں اور ادبی و انتظامی امور میں یدِ طُولٰی رکھتے ھیں۔ محبتی میزبان، محنتی منتظم اور مثالی محبِ غزل مشہور ھیں۔ "یارکشائر ادبی فورم” کے کرتا دھرتا ھیں جو اب عالمی سطح پر ایک مُستند، معتبر اور موقر ادبی پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل کرچُکا ھے۔ مشاعروں میں ڈسپلن کے معاملات کے حوالے سے سخت گیر و محکم گیر مشہور ھیں اور ایسا ھونا بھی چاھئیے۔
اشتیاق میر کے ھمراہ محترمہ ماہ جبین غزل انصاری، تسنیم حسن ، سمیعہ ناز ، مخدوم امجد شاہ، مدیحہ انصاری ، فرحان قدوسی اور ھردلعزیز ظہیر بھائی کی محبت کے ثمرات مشاعرے میں جابجا ھویدا تھے۔ ان احباب کے زیرِ اھتمام مشاعروں میں قابلِ تحسین قرینہ، سَچّا سُچّا سلیقہ اور رنگ و رامش بھرا رچاؤ دکھلائی دیتا ھے۔ میر بھائی ھمیں بریڈ فورڈ سے شیفیلڈ، شیفیلڈ سے گلاسکو، گلاسکو سے ایڈن برا، ایڈن برا سے مانچسٹر لیے لیے پھرے۔ اُڑن کھٹولے کی سیر بھی ایسی چُلبلی کہاں ھوگی !
بریڈ فورڈ کی ایک خاص الخاص بات اسد ضیا جیسے دلپذیر شاعر، محبتی انسان اور ان کے بڑے بھائی اور بھابھی سے مُلاقات تھی۔ نظم کی بے مثال شاعرہ گلناز کوثر اور ھم نے اسد بھائی کی میزبانی و محبت سے خوب لُطف اٹھایا۔ اسد بھائی سے مل کر یُوں لگا جیسے ھماری زندگی میں ایک محبتی بڑا بھائی آگیا ھو۔ اللہ انہیں سلامت رکھے۔
گلاسکو، سکاٹ لینڈ میں معروف شاعرہ راحت زاھد کی تنظیم "بزمِ شعر و ادب” کے پلیٹ فارم سے ایک یادگار مشاعرہ برپا کیا گیا۔ صاحبو ! انگریزی دیس کے عین وسط میں بزم شعر و نغمہ گلاسگو کا آغاز 2003 میں کیا گیا جس کی چئیرپرسن راحت زاھد ھیں۔ راحت نے شبانہ روز کی محنتِ شاقہ کے بعد دیگر احباب زاھد مرزا، شیخ محمد اشرف، عامر شہزاد صدیقی، صفدر جعفری اور اقبال جاوی کی ہمراہی میں بے شمار مشاعرے ، غزل اور قوالی کی محفلیں منعقد کروائیں جن میں قابل ذکر 2006 اور 2008 کے ورلڈ صوفی فیسٹیول شامل ہیں۔ ان پروگرامز میں پاکستان اور ھندوستان کے مشہور شعرائے کرام حمایت علی شاعر، افتخار عارف، ندا فاضلی، غضنفر ھاشمی، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، پروفیسر انور مسعود، امجد اسلام امجد، خالد مسعود، سید گیلانی اور دیگر نے شرکت فرمائی۔ علاوہ ازیں لوکل کمیونٹی میں پاکستان کی ثقافت کو متعارف کروانے کے لئے ملتان کرافٹ بازار کے کاریگروں کا گروپ بلوایا گیا جنھوں نے دست کاری، ٹائل اور موزیک وغیرہ کو عملی طور پر پیش کرکے دکھایا۔ عذرا ریاض اور سلامت علی نے شام غزل پیش کی جبکہ مشہور قوال شیر میاں داد نے اپنے ساتھیوں کے ھمراہ قوالیاں پیش کیں۔ لاھور کے مشہور اجوکا تھیٹر نے بابا بلھے شاہ پر بہترین ڈرامہ پیش کیا۔ انہی فیسٹولز میں پاکستان کے علاوہ ترکی ، ایران ، افغانستان اور دیگر ممالک کے لوک فنکاروں نے اپنے روایتی رقص بھی پیش کیے۔ تین روزہ فیسٹیول میں تقریباً بیس ہزار لوگوں نے شرکت کرکے گلاسگو کی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا۔ اس کے بعد سے اب تک بزم شعر و نغمہ گلاسگو بے شمار معروف شعراء اور فنکاروں کے ساتھ مشاعرے اور موسیقی کی محافل منعقد کرچکی ہے۔گلاسگو کے معروف شعراء میں مرحوم انجم خیالی اور اندرجیت آرزو مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ ان کے علاوہ قابل ذکر ادبی ہستیوں میں پاکستان حلقۂ ادب وفن کے ڈاکٹر محمد شفیع کوثر، انکی مرحومہ بیگم بتول راجو کوثر اور ادبی تنظیم محور کےاحمد ریاض کے نام قابلِ ذکر ھیں۔
صاحبو ! انگلستان کے دشت و دمن میں رنگ و خوشبو کی ایسی فراوانی ھے کہ بس ! منظر اور گھر ایسے کہ تکیے تو تکتے چلے جائیے۔ ساگوان، چیڑ اور صنوبر کی خوشبودار لکڑی سے بنی ترچھی، تہہ در تہہ، مخروطی اور پرت دار چھتیں تاکہ ذرا سا اُوپر گھومتے پھرتے آوارہ بادل اگر برف چھڑکنا شروع کردیں تو برف کے شریر گالے دُھنکی ھوئی روئی کے مانند چھتوں پر قیام کرنے کے بجائے لُڑھک پھسل کر نیچے لان کی سرسبز گھاس پر جاگریں؛ بالکل یُوں جیسے شریر چُنے مُنے بچے جُھولوں بھرے پارک میں چہروں پر کائنات بھر کی مسرتیں سجائے اور آنکھوں میں جہان بھر کی حیرتیں بھرے پھسلواں سلائیڈ پر سے پھسلتے ھوئے، کلکاریاں بھرتے، نیچے گھاس پر جاگرتے ھیں اور تھوڑی سی چوٹ لگنے کے باوجود اپنا مُنا سا پچھواڑہ مَلتے ھوئے اُٹھ بیٹھتے ھیں اور دوبارہ اُسی لپک جھپک کے ساتھ سلائیڈ کی سیڑھی کی جانب دوڑتے ھیں کہ یہی عمل دُھرایا جاسکے۔
دیواریں ان مکانوں کی ایسے پُراسرار قدیمی پتھروں سے چُنی گئی ھیں کہ جادُو نگری کا گُماں گذرتا ھے۔ ان دیواروں پر سُورج کم کم چمکتا ھے البتہ صدیوں کی مُوسلادھار بارش ان پر ضرور بیتی ھے، ھزار ھا سیلانی بادلوں کی ٹولیاں انہیں ٹوہ ٹٹول کر، پھرول کر گذری ھیں۔ صدیوں کی نمی اور سیلن نے ان پر ھلکی مٹیالی، ھلکی سبز پالش پھیر دی ھے کہ جس پر دُور سے کائی کا سا گُماں گذرتا ھے۔ غالب کے لکھنؤ میں سبزے کو جگہ نہ ملتی تو سطحِ آب پر کائی بن جاتا تھا، انگلستان، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ میں سبزہ در و دیوار پر چاندنی سا چمکتا، رھگذاروں پر دیوانگی سا دمکتا اور درختوں پر خوشبوؤں سا مہکتا ھے۔ حُسن تاحدِ نظر اس قدر فراواں کہ آنکھ حیران اور لب پریشان۔ کس کو دیکھیے، کس کو نہ دیکھیے، کس کو چومیے، کس کو نہ چومیے۔
کیا غضب ھے تری بستی کی ھوا
سانس لینے سے نشہ ھوتا ھے
انگلستان میں یار لوگ انگریزی حسیناؤں سے اربابِ وطن کی غلامی و بے بسی کا انتقام براہِ وصال لے کر آتے ھیں۔ ان کے پانچ سو میٹر سے کوئی فرنگی حسینہ محض مروتاً اور عادتاً ھولے سے مسکرا کر بھی گُذر جائے تو سفرنامے کو داستان الف لیلٰی بنا کر اپنی شبینہ فتوحات کی فہرست میں گاڑ دیتے ھیں۔
بُھولے سے مُسکرا تو دیے تھے وہ آج فیض
مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے
لیکن ھم ایسی کوئی بڑ نہیں ماریں گے۔ کیونکہ ھم واقعتاً شریف النفس انسان واقع ھوئے ھیں۔ یارلوگ گواہ ھیں۔ ویسے بھی ھماری شریکِ حیات کو ھم محض اسی سائیکلاجیکل خوف کی وجہ سے ھمراہ نہیں لے گئے کہ انگلستان کی سیر کرتے ھوئے میاں بیوی کے پاس سے کوئی لڑکی گذر جائے تو بیوی کو لڑکی نظر نہیں آتی صرف ڈریس نظر آتا ھے جبکہ میاں کو ڈریس نظر نہیں آتا، صرف لڑکی نظر آتی ھے۔
ویسے لندن کے زینوں کے بارے میں یوسفی ایک شہرہ آفاق جملہ لکھ چُکے ھیں کہ اس قدر تنگ ھیں کہ اگر ایک طرف سے کوئی مرد اور دوسری طرف سے عورت آرھی ھو تو گذرنے کے لیے واحد راستہ صرف نکاح کا بچتا ھے۔ صاحبو ! ھم عرض کرنا چاھتے ھیں کہ لندن کے فلیٹس کے واش روم بھی اتنے تنگ ھیں کہ اگر آپ صابن پر پاؤں آنے کی وجہ سے پھسل بھی جائیں تو بھی کھڑے ھی رھتے ھیں۔ لیکن ھم جہاں ٹھہرائے گئے وھاں میزبان شیخ عبدالقیوم کی کشادہ دلی، فرخ قلبی اور وسعتِ نظر نے ھمیں کسی تنگی کا احساس نہیں ھونے دیا۔
برونٹے سسٹرز (اینی، ایملی اور شارلیٹ) کے گاؤں کی سیر، ھمراہ جاوید بھائی اور اسد بھائی کے، ایک الگ مضمون کی مُتقاضی ھے۔ سرِدست یہ کہ Wuthering Heights اور Jane Ayre کے عاشق ھم لڑکپن سے تھے سو برونٹے سسٹرز کی جنم بھومی کو دیکھ کر روح تک نہال ھوگئے۔
تو صاحبو ! للہِ الحمد کہ یُوں ھمارے انٹرنیشنل مشاعروں کا ایک اور نہایت کامیاب دورہ اختتام کو پہنچا اور ھم واپس گھر ! الحمد للہ رب العالمین !
لگتا ھے چھوڑ آیا ھُوں فارس وھیں کہیں
جاتے ھوئے تو دل مرے رختِ سفر میں تھا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب ہم ملے
گرچہ مہنگا ھے مذھب، خُدا مُفت ھے
کیوں ترے ساتھ رھیں عُمر بسر ھونے تک ؟؟
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
سبھی سرگوشیاں جب ھار کے دم توڑ دیتی ھیں
گرچہ مہنگا ہے مذہب ، خدا مُفت ہے
بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی
نشے میں ڈُوب گیا مَیں ، فضا ھی ایسی تھی
مجھے تمغۂ حُسنِ دیوانگی دو
نظر پڑی ہے تو جی بھر کے دیکھ لو فارس

اشتہارات