اردوئے معلیٰ

داغِ جنوں دھلے تو بہت صاف رہ گئے

شیشے کے تھے لباس جو شفاف رہ گئے

 

لوگوں کی برچھیوں کو ہدف کی تلاش تھی

جن کو نہ تھی تلاش وہ اہداف رہ گئے

 

تیری فصیلِ دل کے مگر در نہیں کھلے

ہم لوگ عمر بھر ترے اطراف رہ گئے

 

اب کیا کسی کے حسن کو ہدیہ کریں یہ دل

اس بے ہنر میں کون سے اوصاف رہ گئے

 

زنجیر کھینچتے ہیں اگر سانس کھنچ سکی

ورنہ تمہارے طالبِ انصاف رہ گئے

 

پہنچی ہے زیرِ نافِ حقیقت کمینگی

بہروپیے کے روپ سرِ ناف رہ گئے

 

تھے کشتہ جنون وہ غالب کہ میر ہوں

ہم کون تھے کہ اس جگہ اسلاف رہ گئے

 

ناصر نہ آ سکی ہمیں اردو میں گفتگو

سب شین رہ گئے ہیں سبھی قاف رہ گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات