اردوئے معلیٰ

 

’’داغِ فرقتِ طیبہ قلبِ مضمحل جاتا‘‘

آرزوؤں کا صحرا باغ بن کے کھل جاتا

حاضری کا غم میرے دل سے مُستقل جاتا

’’کاش گنبدِ خضرا دیکھنے کو مل جاتا‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات