اردوئے معلیٰ

دربارِرسالت کیا کہیے، احباب رسالت کیا کہیے

 

دربارِرسالت کیا کہیے، احباب رسالت کیا کہیے

معراج پہ جا کے نبیوں کی وہ شان امامت کیا کہیے

 

طائر بھی تو اُڑنا بھول گئے، بندوں کی بھلا کیا بات کروں

وہ فتح مبیں کے لمحوں کی، مکے میں خطابت کیا کہیے

 

سونے کو ابد تک چاہوں میں، قدموں میں نبی کے !اللہ

تقدیر کے میرے کاغذ پر، پر نور کتابت کیا کہیے

 

بیٹھے ہیں چٹائی پر لیکن، محبوب خدا کی خدمت میں

شاہوں کی نگاہیں جھک جائیں، آداب عدالت کیا کہیے

 

جھکتی ہے جبیں تو سجدے میں، دنیا میں جہاں چاہوں لیکن

محبوب خدا کی مسجد میں، اللہ کی عبادت کیا کہیے

 

کعبے کی تو اپنی عظمت ہے، ہے خوب مدینے کا منظر

گلزار نبی میں قدرت کے، جلووں کی سخاوت کیا کہیے

 

ایمان مہکنے لگتا ہے گلزار مدینہ میں گلؔ کا

مینارِ نبی کے گوشوں سے آذان تلاوت کیا کہیے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ