دربار رسالت كی كیسی وہ گھڑی ہوگی

دربار رسالت كی كیسی وہ گھڑی ہوگی

حسانؓ كے ہونٹوں پر جب نعت نبی ہوگی

 

بُوبكرؓ و عمرؓ ہوں گے عثمانؓ و علیؓ ہوں گے

حسنینؓ كے نانا كی كیا بزم سجی ہو گی

 

كس شوق سے جاتے ہیں عُشاق مدینے كو

كیا حاضری قسمت میں اپنی بھی كبھی ہوگی

 

آئے گا بلاوا جب سركار كے روضے كا

دل سجدہ كُناں ہو گا آنكھوں میں جھڑی ہوگی

 

كام آئیں گے اے فیضیؔ انوار محبت كے

جب گوشہ مرقد میں اک تیرہ شبی ہوگی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات