درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ

درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ

خاک ہونا تھا مجھے خود مرے پندار کے ساتھ

 

ٹھوکریں کھاتا رہا اور دھڑکتا بھی رہا

تیرے قدموں میں مرا دل مری دستار کے ساتھ

 

آخرِ کار ، تجھے مد مقابل پا کر

جھک گیا سر بھی وہیں پر مرا تلوار کے ساتھ

 

چھین کر لفظ مرے کرتا ہے تصویر مجھے

اور پھر مجھ کو لگا دیتا ہے دیوار کے ساتھ

 

میں فسانے میں ہوں اور مرکزی کردار نہیں

مر گیا ایسا فسانہ مرے کردار کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کسی نے پیڑ ہی کچھ اسطرح اُگائے تھے
ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ
بے دلی
آئینہِ خیال شکستہ ضرور ہے
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
غم چھایا رہتا ہے دن بھر آنکھوں پر

اشتہارات