اردوئے معلیٰ

درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ

خاک ہونا تھا مجھے خود مرے پندار کے ساتھ

 

ٹھوکریں کھاتا رہا اور دھڑکتا بھی رہا

تیرے قدموں میں مرا دل مری دستار کے ساتھ

 

آخرِ کار ، تجھے مد مقابل پا کر

جھک گیا سر بھی وہیں پر مرا تلوار کے ساتھ

 

چھین کر لفظ مرے کرتا ہے تصویر مجھے

اور پھر مجھ کو لگا دیتا ہے دیوار کے ساتھ

 

میں فسانے میں ہوں اور مرکزی کردار نہیں

مر گیا ایسا فسانہ مرے کردار کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات