اردوئے معلیٰ

درودوں کے سحابِ خیر سے تطہیرِ خُو کر کے

نمازِ نعت پڑھتا ہُوں سخن کو با وضو کر کے

 

اُتر آتے ہیں حرفوں میں گُلابوں کے حسیں منظر

مہکتی ہے شبِ مدحت تصور مُشکبو کر کے

 

بسا اوقات، فُرقت شوق کی انگلی پکڑتی ہے

مدینہ دیکھ لیتا ہُوں سفر کی آرزو کر کے

 

ابھی تھا کیفِ حرفِ دل دُعا تک بھی نہیں آیا

وہ دستِ ناز بڑھ آیا عطا کو چار سُو کر کے

 

وفورِ شوقِ بے خود دید کے رستے میں حائل ہے

مواجہ پر کھڑا ہُوں چشمِ حیرت حیلہ جُو کر کے

 

بُلاوا آیا ہے شہرِ کرم سے بے نواؤں کو

سو مَیں بھی جا رہا ہُوں عجز کو زیبِ گُلو کر کے

 

تمثل خود نثارِ نقشِ پائے ناز ہوتا ہے

خجل ہیں چاند سورج طلعتوں کو روبرو کر کے

 

لبالب مِل رہے تھے جام مدحت کی عطاؤں سے

لیا ہے مَیں نے جُرعہ کاسۂ دل کو سبو کر کے

 

اُسی موسم کی اِک شامِ مدینہ یاد کرتا ہُوں

بہ اشکِ چشمِ فرقت شوق کو دل میں نمو کر کے

 

خُدا کا ذکر ہو جاتا ہے تیری نعت کہنے سے

ثنا تیری کیا کرتا ہُوں مَیں تسبیحِ ھُو کر کے

 

جوارِ گنبدِ خضریٰ میں رونق خوب ہے مقصودؔ

کبوتر جھُومتے رہتے ہیں اُن کی گفتگو کر کے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات