اردوئے معلیٰ

درود پڑھتا ہوا نعت گنگناتا ہوا

درود پڑھتا ہوا نعت گنگناتا ہوا

مچل رہا ہے مرا دل مدینے جاتا ہوا

 

حضور آپ کی مدحت کے راستے پر ہوں

بڑے قرینے سے اپنے قدم اٹھاتا ہوا

 

اگرچہ پاؤں برہنہ ہیں پھر بھی جاتا ہوں

مدینہ شہر کی جانب میں مسکراتا ہوا

 

عجب نہیں کہ اندھیروں سے پار ہو جاؤں

قدم قدم پہ دیے نعت کے جلاتا ہوا

 

حضور اس کو رِہا کر کے ساتھ لے جائیں

قفس میں ایک پرندہ ہے پھڑپھڑاتا ہوا

 

خدا کرے کہ وہیں کا مکین ہو جائے

کبوتروں کو فدا باجرہ کھلاتا ہوا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ