درود پڑھ کر اُجال لیں گے جواب سارے

درود پڑھ کر اُجال لیں گے جواب سارے

اِس ایک تدبیر سے جُڑے ہیں حساب سارے

 

بس ایک شاخِ گلِ ثنا کی طلب تھی مہکی

صبا نے دامن میں بھر دیے ہیں گُلاب سارے

 

گئے زمانوں کی اوٹ سے دل دہل رہے تھے

ترے کرم سے ہی ٹل گئے ہیں عذاب سارے

 

یقیں نے شب کے جلو میں بخشی ہے ایسی طلعت

طلب کی آنکھوں میں جاگ اُٹھے ہیں خواب سارے

 

ہم اپنا انعام جانتے ہیں ، سو مطمئن ہیں

بنامِ مدحت سمیٹ لیں گے ثواب سارے

 

جہاں پہ تیرے نقوشِ پائے کرم ہیں رخشاں

خمیدہ دل ہیں وہیں پہ عالی جناب سارے

 

رہیں گے اب تا ابد مسلّم کہ تُو نے بخشے

یہ خَلق کو حُسنِ خُلق کے جو نصاب سارے

 

ترے ہی اسمِ جمال پرور کی بخششوں سے

سحر بہ داماں ہُوئے ہیں طلعت مآب سارے

 

اُنہی کی نعتِ کرم سے مقصودؔ منعکس ہیں

کتابِ ہستی میں درج جتنے ہیں باب، سارے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ