’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘

 

’’درِ احمد پہ اب میری جبیں ہے‘‘

مجھے بخشش کا اب اپنے یقیں ہے

تصور میں مرے وہ دل نشیں ہے

’’مجھے کچھ فکرِ دو عالم نہیں ہے‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آرزو ہے کہ اُنؐ کا گھر دیکھوں
وہی لاریب محبوبِ خدا ہیں
اُنؐ کا ہے کرم صبح و مسا دیکھ رہا ہوں
محبت کا نگر آباد رکھنا
حبیبِ کبریا میرے محمدؐ
’’اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار‘‘
’’تمہارا نوٗر ہی ساری ہے اُن ساری بہاروں میں ‘‘
’’بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دے‘‘
’’خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے‘‘
حسن و جمالِ اُسوۂ آقا پہ ہو نظر!

اشتہارات