درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو

 

درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو

میں کیا سے کیا ہوا، آخر تو ہے فنا مجھ کو

 

خدا کے بعد ہے اک آسرا ترا مجھ کو

میں خود کو بھول بھی جاؤں، نہ بھولنا مجھ کو

 

جہان ایک ہی سجدہ میں مل گیا مجھ کو

شعور آپ نے اتنا تو دے دیا مجھ کو

 

مری حیات پہ برسے ہیں جذب کے بادل

حب احمد کا بڑا ایک ہے دعویٰ مجھ کو

 

لبوں پہ دیکھنا اعزاز گل مدینے میں

نظر تو آئے کوئی ایک نقش پا مجھ کو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
جشن میلاد النبیؐ ہے صاحب قرآن کا

اشتہارات