اردوئے معلیٰ

درِ رسول پہ گزرے، تمام ہو جائے

درِ رسول پہ گزرے ، تمام ہو جائے

مری حیات محمد کے نام ہو جائے

 

ہے در پہ ساقیءِ کوثر کے نوک خم اِس کی

مرے قلم کو عطا کوئی جام ہو جائے

 

پڑھوں درود لکھوں نعتِ شافعِ محشر

کہ روزِ حشر کا کچھ انتظام ہو جائے

 

نہ جس میں ذکر ہو تیرے حبیب کا یا رب

ہر ایک سانس وہ، مجھ پر حرام ہو جائے

 

جو چھو کے آئی ہے بادِ صبا ترا روضہ

اے کاش مجھ سے کبھی ہمکلام ہو جائے

 

پڑھوں نماز تو بس روبرو محمد ہوں

مرے شعور میں ایسا قیام ہو جائے

 

پیامِ امن ہے اُسوہ ہمارے آقا کا

"طریقہ رحمتِ عالم کا عام ہو جائے”

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ