اردوئے معلیٰ

Search

درِ زہرا پہ ہے نظر اپنی

آج قسمت ہے اوج پر اپنی

 

میرے شبیر! مجھ کو دکھلا دے

اپنا دربار ، رہگزر اپنی

 

ذکر شبیر سے ہے کام فقط

داستاں ہے یہ مختصر اپنی

 

کیوں نہ آساں ہو دشت غم کا سفر

ہے تری یاد ہمسفر اپنی

 

میرا صحرائے جاں بھی ہو شاداب

تم اگر ڈال دو نظر اپنی

 

مدح آل نبی کی مد میں سدا

خرچ ہو دولت ہنر اپنی

 

گلشن فاطمہ سے ہے منسوب

شاخ دل ہوگی بار ور اپنی

 

وہ فنا فی الحسین ہوگیا ہے

اس کو کچھ بھی نہیں خبر اپنی

 

گلشن فاطمہ ترے صدقے

ہوگئی شاخ ہر شجر اپنی

 

میں حسینی ہوں مجھ سے بات نہ کر

محفل انجم و قمر اپنی

 

مل گیا نورؔ دامن شبیر

ہو گئی زیست معتبر اپنی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ